تمہید و پس منظر
الحمد للہ الذی وفق من شاء من عبادہ للتفقہ فی الدین، ووفقہم لاستنباط الاحکام من الکتاب المبین، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد افصح الناطقین وخیر الفاتحین، وعلی آلہ وصحبہ الائمۃ المہتدین، اما بعد!
دینِ اسلام ایک آفاقی، جامع اور ابدی ضابطۂ حیات ہے جو قیامت تک پیدا ہونے والے ہر انسان کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات کی کفالت کرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ میں شریعت کے بنیادی عقائد، اخلاق اور کلی اصول نازل فرمائے۔ لیکن انسانی زندگی کے روزمرہ پیش آنے والے لاتعداد جزئی مسائل، بدلتے ہوئے حالات اور نت نئے معاملات میں قرآنی نصوص سے شرعی احکام کو اخذ و استنباط کرنے کے لیے جس مقدس علم کی ضرورت پیش آئی، اسے 'علمِ فقہ' کہا جاتا ہے۔
فقہ اسلامی محض چند خشک قانونی دفعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ قرآن و سنت کی گہری بصیرت، عقلِ سلیم کے استدلال اور تقویٰ و خشیت کا وہ حسین سنگم ہے جس نے چودہ صدیوں تک امتِ مسلمہ کے عدالتی، مالیاتی، خاندانی اور معاشرتی نظام کو عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم رکھا۔ اس مقالے میں فقہ کے لغوی و اصطلاحی مفہوم، اس کی تاریخی تدوین، بنیادی مآخذ اور عصرِ حاضر میں اس کی ناگزیر ضرورت پر مفصل علمی روشنی ڈالی گئی ہے۔
بنیادی تعارف و مفہوم
لغوی اعتبار سے لفظ 'فقہ' کا معنی 'کسی چیز کی گہری اور باریک سمجھ بوجھ حاصل کرنا' ہے (الفَهْمُ الدَّقِيقُ لِلْأَشْيَاءِ)۔ قرآن مجید میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے حوالے سے فرمایا گیا: ﴿قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ﴾ (ہود: ۹۱) یعنی انہوں نے کہا: اے شعیب! آپ کی بہت سی باتیں ہماری گہری سمجھ میں نہیں آتیں۔
اصطلاحی شریعت میں فقہ کی جامع ترین تعریف ائمہ اصول نے یوں فرمائی ہے: «الْعِلْمُ بِالأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ الْعَمَلِيَّةِ الْمُكْتَسَبُ مِنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ» یعنی ان عملی شرعی احکام (جیسے نماز، روزہ، خرید و فروخت، نکاح وغیرہ) کا ایسا تفصیلی علم حاصل کرنا جو شریعت کے تفصیلی دلائل (قرآن، سنت، اجماع اور قیاس) سے اخذ و استنباط کیا گیا ہو۔
شریعت اور فقہ میں فرق: عام لوگ بسا اوقات شریعت اور فقہ کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ علمی اعتبار سے ان میں لطیف فرق ہے۔ شریعت اللہ رب العزت کا وہ نازل کردہ دین ہے جو قرآن اور احادیثِ صحیحہ کے اندر غیر متبدل صورت میں محفوظ ہے، جس میں کسی خطا کا امکان نہیں۔ جبکہ فقہ اس شریعت کو سمجھنے، اس کی تشریح کرنے اور مجتہدین کرام کی علمی کاوشوں اور استنباط کا نام ہے، جس میں انسانی فہم اور اجتہادی اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔
تفصیلی علمی و فکری مباحث
فقہ اسلامی کی ابتدا اور تاریخی ارتقاء کے مراحل
فقہ اسلامی کا ارتقاء اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ چند تاریخی ادوار سے گزر کر کمال کو پہنچا:
۱. عہدِ نبوی: اس دور میں شریعت کے احکام کا واحد ماخذ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ تھی۔ وحیِ الٰہی کے ذریعے احکام نازل ہوتے اور صحابہ کرام براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے ہر مسئلے کا حل معلوم کرتے۔
۲. عہدِ صحابہ و خلفائے راشدین: رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جب فتوحات کی وسعت سے نئے نئے خطے اور اقوام اسلام میں داخل ہوئیں، تو صحابہ کرام نے قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھ کر مشورہ و اجتہاد سے فیصلے کیے۔ اس دور کے فقہائے صحابہ میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم سرِ فہرست تھے۔
۳. دورِ تابعین و ائمہ اربعہ (دورِ تدوین): دوسری اور تیسری صدی ہجری فقہ کی باقاعدہ تدوین کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں چار ممتاز فقہی مذاہب مدون ہوئے: فقہ حنفی (امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت)، فقہ مالکی (امام دار الہجرۃ مالک بن انس)، فقہ شافعی (امام محمد بن ادریس الشافعی)، اور فقہ حنبلی (امام احمد بن حنبل)۔ ان ائمہ نے شریعت کے نصوص کو منضبط قواعد اور اصولوں میں پرو دیا۔
فقہ کے بنیادی مآخذ (ادلۂ اربعہ) اور فقہی قواعد
جمہور اہل سنت کے نزدیک فقہی احکام کے استنباط کے چار بنیادی مآخذ ہیں:
۱. قرآن مجید: شریعت کا پہلا اور سب سے قطعی ماخذ۔
۲. سنتِ نبوی ﷺ: قرآن کی عملی تشریح اور دوسرا بنیادی ماخذ۔
۳. اجماعِ امت: کسی زمانے میں امتِ محمدیہ کے تمام مجتہدین کا کسی شرعی حکم پر متفق ہو جانا۔
۴. قیاسِ شرعی: علتِ مشترکہ کی بنیاد پر کسی نئے مسئلے کو قرآن و سنت کے ثابت شدہ مسئلے کے مشابہ قرار دے کر وہی حکم لگانا۔
اس کے ساتھ ائمہ نے عالمگیر فقہی قواعد (القواعد الفقہیۃ) وضع کیے جو ہزاروں جزئی مسائل کو اپنے اندر سمیٹتے ہیں، جیسے: «الْأُمُورُ بِمَقَاصِدِهَا» (کاموں کا دار و مدار نیتوں پر ہے)، «الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ» (یقین شک سے زائل نہیں ہوتا)، «الْمَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّيْسِيرَ» (تکلیف و مجبوری آسانی کو کھینچ لاتی ہے)، اور «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» (نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچاؤ)۔
فقہی اختلاف کی وجوہات اور اختلاف کے شائستہ آداب
ائمہ کرام کے درمیان فقہی جزئیات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے، وہ ذاتی ضد یا ہٹ دھرمی پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے خالص علمی اور اصولی اسباب کارفرما تھے: مثلاً کسی لفظ کے لغوی معنی کی وسعت، کسی حدیث کے راویوں کی توثیق کے شرائط کا فرق، یا قیاس کے اصولوں کا اختلاف۔
ائمہ سلف کا شیوہ یہ تھا کہ وہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے علمی مقام کا بے پناہ احترام کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے، علمی استفادہ کرتے اور کبھی کسی فقہی ترجیح پر کفر، فسق یا گمراہی کا فتویٰ نہیں لگاتے تھے۔ عصرِ حاضر میں اس اخوت اور رواداری کو زندہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات
قرآن مجید نے دین کی گہری فہم (تفقه فی الدین) اور استنباطِ احکام کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے:
﴿ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ﴾
اور یہ مناسب نہ تھا کہ مومنین سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین کی گہری سمجھ (فقہ فی الدین) حاصل کرتے اور اپنی قوم کو جب ان کی طرف واپس آتے خبردار کرتے تاکہ وہ (گناہوں سے) بچیں۔
﴿ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا ﴾
اور اگر وہ اس معاملے کو رسول اور اپنے میں سے اہل علم و فہم (صاحبانِ امر) کی طرف لوٹاتے تو وہ لوگ جو ان میں سے بات کی تہہ تک پہنچتے ہیں (استنباط کرتے ہیں) اس کی حقیقت جان لیتے۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات
رسول اکرم ﷺ نے فقاہت اور تفقہ فی الدین کو اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و انعام کی علامت قرار دیا:
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی اور خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ (فقہ فی الدین) عطا فرما دیتا ہے۔
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟» قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟» قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدْ؟» قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو. فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَدْرَهُ وَقَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ»
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو پوچھا: جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے گا تو کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی کتاب سے۔ فرمایا: اگر اس میں صریح نہ پاؤ؟ عرض کیا: رسول اللہ کی سنت سے۔ فرمایا: اگر اس میں بھی نہ پاؤ؟ عرض کیا: میں اپنی فہم سے اجتہاد کروں گا اور کوتاہی نہیں کروں گا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر دستِ مبارک مار کر فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اس کا رسول راضی ہے۔
عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ
روزمرہ کی زندگی میں فقہی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل اصولوں کی پاسداری ضروری ہے:
معاملات اور عبادات کی درستی کے لیے فقہی علم حاصل کرنا
ہر مسلمان پر اپنی ضرورت کے مطابق احکام (وضو، نماز، روزے کے مسائل، اور اگر تاجر ہے تو خرید و فروخت کے مسائل) کا علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے۔
اہلِ علم و مفتیانِ کرام کی طرف رجوع
کسی بھی نئے یا مشتبہ معاملے میں اپنی کم علمی کی بنیاد پر فتویٰ دینے کے بجائے معتبر اور مستند دار الافتاء سے رجوع کریں۔
فقہی اختلافات میں اعتدال اور تعصب سے دوری
ائمہ اربعہ کے فقہی اختلافات کو رحمت سمجھیں، اپنے مسلک کی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے دیگر ائمہ اور ان کے پیروکاروں پر طعن و تشنیع سے سختی سے گریز کریں۔
سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ فتاویٰ سے اجتناب
انٹرنیٹ پر بغیر کسی مستند حوالے کے گردش کرنے والے غیر ذمہ دارانہ اقوال کو شریعت کا فیصلہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔
اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)
- فقہ اسلامی قرآن و سنت کے تفصیلی دلائل سے عملی شرعی احکام کو اخذ کرنے کا علم ہے۔
- شریعت من جانب اللہ غیر متبدل دین ہے جبکہ فقہ شریعت کی فہم اور اجتہادی تعبیر ہے۔
- فقہ کے بنیادی مآخذ چار ہیں: قرآن، سنت، اجماع اور قیاس۔
- فقہی قواعد ہزاروں جزئی مسائل کو حل کرنے کے لیے عالمگیر اصول فراہم کرتے ہیں۔
- ائمہ مجتہدین کا اختلاف علمی اور اصولی تھا جس میں احترام اور وسعتِ قلبی موجود تھی۔
- عصرِ حاضر کے جدید معاشی، طبی اور معاشرتی مسائل کا حل فقہی بصیرت اور اجتہاد میں مضمر ہے۔
خلاصۂ کلام
فقہ اسلامی درحقیقت شریعتِ محمدیہ ﷺ کی وہ علمی اور فکری شریان ہے جو ہر دور کے تقاضوں کے ساتھ امت کو زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔ اگر فقہ کا یہ فقید المثال ذخیرہ موجود نہ ہوتا تو امت کے سامنے قرآن و سنت کی عملی تطبیق کے راستے مسدود ہو جاتے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم فقہ اسلامی کے مقام کو سمجھیں، اپنے ائمہ کرام کی خدمات کی قدر کریں، اور اپنی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی معمولات کو فقہی بصیرت اور تقویٰ کے دائرے میں گزارنے کی کوشش کریں۔
حوالہ جات و مراجع (Sources & References)
- المستصفیٰ فی علم الأصول — حجة الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی۔
- بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع — امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی۔
- أصول السرخسی — امام شمس الائمہ ابو بکر محمد بن احمد بن ابی سہل السرخسی۔
- الفقہ الإسلامی وأدلتہ — ڈاکٹر وہبہ بن مصطفیٰ الزحیلی۔
- القواعد الفقهية — علامہ احمد بن محمد الزرقا الحنفی۔

