تمام مضامین پر واپس جائیں
قرآن و تفسیرشائع شدہ (علمی نظرِ ثانی شدہ)مطالعہ: ۱۵ منٹ

قرآن مجید میں اخلاقی تربیت اور اصلاح معاشرہ

مضمون نگار

مصنف: ابوبکر صدیق

آئی ٹی اینڈ سسٹم ایڈمنسٹریٹر، جامعہ شیرِ ربانی

جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
مصنف: ابوبکر صدیق
•
جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
•
شعبہ تصنیف و تحقیق
•
مستند علمی و فکری سلسلہ
قرآن مجید میں اخلاقی تربیت اور اصلاح معاشرہ
قرآن و تفسیر • جامعہ شیرِ ربانی
خلاصۂ مضمون و موضوعِ بحث:

معاشرتی خرابیوں کے تدارک، اعلیٰ اخلاقی اوصاف کے احیاء اور پاکیزہ اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے قرآنی منہج۔

تمہید و پس منظر

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

کسی بھی قوم کی حقیقی عظمت اس کی معاشی خوشحالی، عسکری قوت یا بلند و بالا عمارات سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کا اصل معیار اس قوم کا اخلاقی کردار اور معاشرتی حسنِ سلوک ہوتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار زوال پذیر ہو جائیں تو قانون کی سختیاں اور پولیس کے ڈنڈے بھی جرائم کی روک تھام نہیں کر سکتے۔ قرآن مجید نے انسان کے تزکیۂ باطن اور معاشرتی اصلاح کا ایسا ہمہ گیر اور مؤثر نظام پیش کیا ہے جس کی بنیاد خوفِ خدا، احساسِ جوابدہی اور باہمی اخوت پر استوار ہے۔

قرآن کریم نے محض چند اخلاقی پند و نصائح پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ معاشرتی برائیوں کی جڑوں کو کاٹ کر ان کے متبادل اعلیٰ انسانی اقدار قائم فرمائیں۔ سورۃ الحجرات، سورۃ النحل اور سورۃ الفرقان جیسی سورتوں میں معاشرتی زندگی کے جو اصول بیان کیے گئے ہیں، وہ دنیا کے تمام فلسفہ ہائے اخلاق پر فوقیت رکھتے ہیں۔ اس مقالے میں اخلاقی تربیت کے قرآنی منہج اور اصلاحِ معاشرہ کے سنہری اصولوں پر تحقیقی گفتگو کی گئی ہے۔

بنیادی تعارف و مفہوم

اسلامی اخلاقیات کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق صرف ظاہر سے نہیں بلکہ باطن کی صفائی اور نیت کے اخلاص سے ہے۔ قرآن مجید نے نبوتِ محمدی ﷺ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم ترین مقصد 'تزکیہ' قرار دیا ہے: ﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾ (آل عمران: ۱۶۴)۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو کبر، حسد، ریاکاری، حرص اور بغض جیسے گندے امراض سے پاک کرے اور اس میں خشیتِ الٰہی، محبت، عاجزی اور سچائی کو آباد کرے۔

معاشرے کی قرآنی اساس 'ایمانی اخوت' پر قائم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ یعنی تمام مومن آپس میں حقیقی بھائیوں کی مانند ہیں۔ بھائی چارے کا یہ قرآنی تصور رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کی تمام دیواروں کو مسمار کر کے ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے جس میں ایک مسلمان کا درد پوری امت کا درد بن جاتا ہے۔

سورۃ الحجرات کو مفسرین کرام نے 'سورۃ الاخلاق والآداب' کا لقب دیا ہے، کیونکہ اس مختصر سورت کے اندر ان تمام مہلک سماجی برائیوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جو باہمی اعتماد کو پارہ پارہ کرتی ہیں اور معاشرے کے امن کو نگل جاتی ہیں۔

تفصیلی علمی و فکری مباحث

مہلک معاشرتی برائیوں کا قرآنی سدِ باب

قرآن مجید نے ان چھ بنیادی برائیوں پر سخت قدغن لگائی ہے جو معاشرے کے امن کو تباہ کرتی ہیں:

۱. تضحیک اور تمسخر کی ممانعت: کسی دوسرے انسان کے عیب تلاش کر کے یا اس کی شکل، نسب یا غریبی کا مذاق اڑانا انتہائی قبیح فعل ہے۔ قرآن نے فرمایا: ﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ﴾ یعنی کوئی قوم دوسری کا مذاق نہ اڑائے، کیا عجب کہ وہ اللہ کے ہاں ان سے بہتر ہوں۔

۲. طعنہ زنی اور برے القاب سے پکارنا: کسی کو طعنہ دینا یا ایسے القاب سے یاد کرنا جس سے اس کی دل آزاری ہو، فسق اور گناہ قرار دیا گیا۔

۳. بدگمانی سے پرہیز: کسی کے بارے میں بلا دلیل برا گمان قائم کرنا گناہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ جھوٹی ترین بات ہے۔

۴. تجسس اور عیب جوئی کی ممانعت: دوسروں کے نجی معاملات، ان کی خامیوں اور خفیہ باتوں کی ٹوہ لگانا حرام ہے۔ قرآن حکم دیتا ہے: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾۔

۵. غیبت کی ہولناکی: کسی کی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے، غیبت کہلاتی ہے۔ قرآن نے اس کی قباحت کو یوں بیان فرمایا کہ یہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

تعمیری اخلاقی اقدار اور باہمی تعاون

برائیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید نے معاشرے کی تعمیر کے لیے مثبت اوصاف کا حکم دیا:

عدل اور احسان: سورۃ النحل کی آیت ۹۰ کو دین کا نچوڑ کہا جاتا ہے، جس میں عدل (انصاف)، احسان (بھلائی)، اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ عدل یہ ہے کہ حق دار کو اس کا حق دیا جائے، اور احسان یہ ہے کہ اپنے حق سے بڑھ کر دوسرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔

عفو و درگزر اور غصے پر قابو: اللہ کے پسندیدہ بندے وہ ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں (وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ)۔ انتقام کے جذبے کے بجائے معاف کرنے کا رویہ دشمن کو بھی گہرا دوست بنا دیتا ہے۔

اصلاحِ بین الناس: اگر دو مسلمانوں یا خاندانوں میں جھگڑا ہو جائے تو تماشائی بننے یا آگ بھڑکانے کے بجائے قرآن کا حکم ہے کہ ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرائی جائے۔

قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات

معاشرتی اخلاقیات کے متعلق نازل ہونے والی جامع قرآنی آیات ملاحظہ فرمائیں:

سورة الحجرات • آیت نمبر: ۱۰قرآن مجید

﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾

ترجمۂ مبارک:

بیشک سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ کا خوف رکھو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

فکری و تفسیری نکتہ: اس آیت میں مسلمانوں کو یہ درس دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں اور جب بھی باہمی ناچاقی پیدا ہو تو غیر جانبدارانہ طور پر صلح صفائی کا کردار ادا کریں۔
سورة الحجرات • آیت نمبر: ۱۲قرآن مجید

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ﴾

ترجمۂ مبارک:

اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے عیبوں کی ٹوہ نہ لگاؤ اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے گھن کھاتے ہو! اور اللہ سے ڈرو۔

فکری و تفسیری نکتہ: یہ آیت بدگمانی، تجسس اور غیبت کے خلاف ایک جامع ترین الہامی ضابطہ ہے۔ اس میں غیبت کی کراہت کو مردہ انسان کے گوشت سے تشبیہ دے کر انسان کے ضمیر کو بیدار کیا گیا ہے۔
سورة النحل • آیت نمبر: ۹۰قرآن مجید

﴿ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴾

ترجمۂ مبارک:

بیشک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم و سرکشی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

فکری و تفسیری نکتہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں نیکی اور بدی کے تمام شعبوں کو سمیٹنے والی اس سے زیادہ جامع کوئی آیت نہیں ہے۔

احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات

رسول اللہ ﷺ نے حسنِ اخلاق اور معاشرتی امن کے حوالے سے جو ارشادات فرمائے وہ سیرت کا زریں باب ہیں:

مسند احمد / الأدب المفرد للبخاریحدیث: 8952 (احمد) / 273 (الأدب)
حکم: صحیح

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ»

اردو ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے تو بھیجا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ میں اعلیٰ اخلاقی اقدار اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل کر دوں۔

تشریح و مقصد: اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ بعثتِ نبوی ﷺ کا سب سے بڑا ثمرہ اور مقصد انسانیت کو اخلاقِ حسنہ کے بلند ترین مرتبے پر فائز کرنا ہے۔
صحیح مسلمحدیث: 2564
حکم: صحیح

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا - وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»

اردو ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑے اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے (اور آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف تین بار اشارہ فرمایا)۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو حرام ہے۔

تشریح و مقصد: یہ حدیث اسلامی معاشرت کا منشورِ اعظم ہے۔ اس نے انسان کے بنیادی انسانی حقوق: جان، مال اور عزت کو مکمل تقدس عطا کر دیا۔
جامع الترمذیحدیث: 2003
حکم: حسن صحیح

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ»

اردو ترجمہ:

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مومن کے پلڑے میں اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ وزنی نہیں ہوگی۔

تشریح و مقصد: نفل عبادات کے مقابلے میں اگر کسی کے اخلاق اعلیٰ ہوں، وہ لوگوں کو تکلیف نہ دیتا ہو اور معاف کرنے والا ہو، تو میزانِ عدل میں اس کا ثواب سب سے زیادہ بھاری ہوگا۔

عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ

معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر فرد درج ذیل قرآنی اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے:

1

سوشل میڈیا پر افواہوں اور الزام تراشی سے گریز

آج کل سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا، دوسروں کی تذلیل کرنا اور خفیہ ویڈیوز بنانا عام ہو چکا ہے۔ قرآن کی رو سے ایسی باتوں سے سختی سے بچیں اور تحقیق کے بغیر کوئی بات آگے نہ بڑھائیں۔

2

مجالس میں غیبت اور چغلی کا بائیکاٹ

جب کسی محفل میں کسی غیر حاضر شخص کی برائی ہو رہی ہو، تو یا تو اس کی عزت کا دفاع کریں یا اس محفل کو چھوڑ دیں تاکہ غیبت کا گناہ اپنے سر نہ آئے۔

3

دوسروں کے عیوب پر پردہ پوشی

کسی مسلمان کا عیب دیکھ کر اسے اچھالنے کے بجائے تنہائی میں خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کریں اور دوسروں کے سامنے اس کی پردہ پوشی کریں۔

4

اختلافات میں زبان و قلم کی شائستگی

رائے کا اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، گالی گلوچ، کفر کے فتوے اور ذاتی حملوں سے بچیں، اور قرآنی ہدایت «وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا» پر عمل کریں۔

اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)

  • اخلاق کی پاکیزگی اور تزکیہ دینِ اسلام اور بعثتِ نبوی ﷺ کا مرکزی ہدف ہے۔
  • معاشرتی امن کی بنیاد باہمی اخوت، احترام اور خوفِ خدا پر قائم ہے۔
  • تضحیک، بدگمانی، تجسس اور غیبت ایسی مہلک بیماریاں ہیں جو معاشرتی وحدت کو تباہ کر دیتی ہیں۔
  • ہر مسلمان کی جان، اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام اور محترم ہے۔
  • قیامت کے دن نیکیوں کے ترازو میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی۔

خلاصۂ کلام

قرآن مجید کا اخلاقی نظام نہ صرف انسان کو ایک بہترین فرد بناتا ہے بلکہ ایک پرامن، عادلانہ اور مثالی معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، نفرت، انتشار اور باہمی کھنچاؤ کی جو فضا نظر آتی ہے، اس کی بنیادی وجہ قرآنی اخلاقیات سے دوری ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کو امن اور محبت کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سورۃ الحجرات اور قرآنی اخلاق کی طرف پلٹنا ہوگا۔ ہمیں غیبت، تجسس اور تضحیک کو چھوڑ کر باہمی ہمدردی، عفو و درگزر اور عدل و احسان کو اپنے معمولات کا حصہ بنانا ہوگا۔

حوالہ جات و مراجع (Sources & References)

  1. تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر) — سورۃ الحجرات وسورۃ النحل۔
  2. الأدب المفرد — امام محمد بن اسماعیل البخاری۔
  3. ریاض الصالحین من کلام سید المرسلین — امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی۔
  4. جامع الترمذی (السنن) — امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی۔
  5. مدارج السالکین بین منازل ایاک نعبد وایاک نستعین — علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ۔
علمی نظرِ ثانی و ادارتی نوٹ: یہ مقالہ جامعہ شیرِ ربانی کے علمی و تحقیقی شعبہ کے تحت قرآنی مراجع اور کتبِ حدیث کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اشاعت کے لیے مستند دار الافتاء اور اساتذہ کرام کی باقاعدہ توثیق و نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔
اسی زمرے سے مزید

متعلقہ علمی مضامین

مزید دیکھیں
قرآن مجید کا تعارف، اہمیت اور انسانی زندگی میں اس کا مقام
قرآن و تفسیر

قرآن مجید کا تعارف، اہمیت اور انسانی زندگی میں اس کا مقام

قرآن مجید کلامِ الٰہی، انسانیت کے لیے آخری اور ابدی ہدایت، اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کے مقام و عظمت کا علمی و فکری جائزہ۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں
قرآن کریم کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی
قرآن و تفسیر

قرآن کریم کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی

روزمرہ کے معمولات، معاملات اور باہمی رشتوں میں قرآنی احکام و اخلاقیات کو عملی جامہ پہنانے کے رہنما اصول۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں