تمہید و پس منظر
الحمد للہ الذی قرن شکرہ بشکر الوالدین، واوجب برہما وجعلہ من اعظم القربات للخلائق اجمعین، والصلاة والسلام علی من اوصی بالام ثلاثا وبالاب، سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اولی الفضل والادب، اما بعد!
انسانی معاشرے کی بقا اور اس کے سکون کی بنیادی اکائی خاندان ہے، اور اس خاندان کا سب سے مقدس، محترم اور باوقار رشتہ والدین کا رشتہ ہے۔ ربِ کائنات نے قرآن مجید کے درجنوں مقامات پر اپنی خالص بندگی اور توحید کے فوراً بعد اگر کسی مخلوق کے حق کو ذکر فرمایا ہے، تو وہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان کا حق ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس نے ۹ ماہ تک درد اور مشقت کے ساتھ اپنے وجود کے لہو سے بچے کو سینچا، اور باپ وہ سایہ دار شجر ہے جس نے اپنی جوانی، خون پسینہ اور توانائیاں اولاد کے آرام اور مستقبل کے لیے قربان کر دیں۔
بدقسمتی سے آج کے مادہ پرست اور خود غرض دور میں مغربی تہذیب کے زہریلے اثرات نے ہمارے مشرقی اور اسلامی خاندانی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھنا، ان کی بات کاٹنا، انہیں اولڈ ایج ہومز (اولڈ ہومز) کے سپرد کرنا، اور اپنی بیوی بچوں کے چکر میں بوڑھے ماں باپ کو تنہائی کی سولی پر لٹکا دینا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ اسلام نے والدین کے بڑھاپے میں ان کے سامنے 'اُف' تک کہنے کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں والدین کے حقوق کی قرآنی و نبوی اہمیت، بڑھاپے کی ذمہ داریوں، اور وفات کے بعد کے حقوق پر سیر حاصل تحقیقی گفتگو پیش کی گئی ہے۔
بنیادی تعارف و مفہوم
اسلام میں والدین کے مقام کی بنیاد: اسلام نے والدین کے احسانات کا بدلہ چکانا انسان کے بس سے باہر قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اسے کسی کا غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد نہ کرا دے۔ ماں کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ جنت کو ماں کے قدموں تلے بچھا دیا گیا۔
قرآن مجید کا تاریخی حکم: اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء میں فیصلہ کن انداز میں ارشاد فرمایا: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ یعنی تیرے رب نے یہ اٹل فیصلہ فرما دیا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کی جائے اور والدین کے ساتھ کامل احسان کیا جائے۔
اطاعت کی شرعی حدود: والدین کی ہر جائز بات ماننا، ان کے سامنے سر جھکانا اور ان کی خدمت کرنا فرض ہے۔ اگر والدین شرک یا کسی صریح گناہ کا حکم دیں، تو اس مخصوص گناہ میں ان کی بات نہیں مانی جائے گی کیونکہ قاعدہ ہے: «لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ» (خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)؛ مگر اس کے باوجود قرآن حکم دیتا ہے کہ دنیا کے معاملات میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ادب کو برقرار رکھا جائے (وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا)۔
تفصیلی علمی و فکری مباحث
بڑھاپے میں والدین کی خصوصی نگہداشت اور 'اُف' کی ممانعت
انسان جب بوڑھا ہوتا ہے تو وہ جسمانی اور نفسیاتی اعتبار سے دوبارہ بچے کی طرح حساس اور کمزور ہو جاتا ہے۔ ان کی بار بار دہرائی جانے والی باتیں، بیماری اور چڑچڑاپن اولاد کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے اس نازک مرحلے کے لیے ادب کا سب سے بڑا ضابطہ دیا: ﴿فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾ یعنی جب ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اُف' (بیراخی، تنگدلی یا بیزاری کی ہلکی سی آہ) بھی مت کہو، اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے ادب اور تعظیم کے ساتھ میٹھے لہجے میں بات کرو۔
جو اولاد والدین کے بڑھاپے میں ان کی نوکری کو احسان سمجھتی ہے، وہ درحقیقت جہنم کا ایندھن خرید رہی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے تین بار فرمایا: «رَغِمَ أَنْفُهُ» (اس کی ناک خاک آلود ہو!) جو شخص اپنے والدین کے بڑھاپے کو پائے اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت نہ پا سکے۔
والدین کی نافرمانی (عقوق الوالدین) کی ہلاکت خیز وعیدیں
اسلام میں والدین کی نافرمانی اور دل آزاری کو 'عقوق الوالدین' کہا جاتا ہے، اور اسے شرک کے بعد تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ (اکبر الکبائر) قرار دیا گیا ہے۔
احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی سزا قیامت کے لیے مؤخر کر سکتا ہے، سوائے والدین کی نافرمانی کے، جس کی سزا اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے سے پہلے اسی دنیا میں دکھا دیتا ہے۔ جو اولاد آج اپنے ماں باپ کو رلاتی ہے، کل اس کی اپنی اولاد اس کے ساتھ اس سے بدتر سلوک کرتی ہے۔
والدین کی وفات کے بعد اولاد کے فرائض
والدین کا حق ان کے مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا والدین کی وفات کے بعد بھی ان کا کوئی حق ہم پر باقی رہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! چار امور:
۱. ان کے لیے دعائے مغفرت اور رحمت کی دعا کرنا: ﴿رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾۔
۲. ان کے کیے ہوئے جائز وعدوں اور وصیتوں کو پورا کرنا۔
۳. ان کے ذریعے قائم ہونے والے رشتوں کے ساتھ صلہ رحمی اور بھلائی کرنا (جیسے خالہ، ماموں، چچا، پھوپھی)۔
۴. والدین کے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کا اکرام اور عزت کرنا۔
قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات
قرآن مجید میں والدین کی شکر گزاری اور ان کے سامنے عاجزی کی تلقین فرمائی گئی ہے:
﴿ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴾
اور آپ کے رب نے قطعی حکم فرما دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اُف' تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے عزت و تعظیم والی بات کہو۔ اور ان کے آگے عاجزی کے بازو جھکا دو اور دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔
﴿ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴾
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید فرمائی، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری جھیل کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا، کہ تو میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا شکر ادا کر، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات
رسول اکرم ﷺ نے ماں کی خدمت کو باپ پر تین گنا فضیلت دی اور رب کی رضا کو والدین کی رضا سے وابستہ فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تمہارا باپ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ»
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے، اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ
والدین کی خدمت اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کے چند عملی طریقے:
روزانہ ادب اور محبت کے ساتھ ان کی خیریت پوچھنا
اگر والدین ساتھ رہتے ہیں تو روزانہ صبح ان کے ہاتھ یا پیشانی چوم کر دعائیں لیں، اور اگر دور رہتے ہیں تو روزانہ فون پر ان سے محبت سے بات کریں۔
ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے پرہیز
کبھی غصے یا بحث میں والدین کے سامنے آواز بلند نہ کریں، نہ آنکھیں دکھائیں، بلکہ ان کے سامنے اپنے لہجے کو نہایت دھیما اور مؤدب رکھیں۔
مالی ضروریات اور ادویات کی پیشگی فراہمی
والدین کے مانگنے سے پہلے ان کی ضروریات، لباس، خوراک، اور علاج معالجے کا انتظام کریں اور انہیں یہ احساس نہ ہونے دیں کہ ان پر خرچ بوجھ ہے۔
وفات کے بعد باقاعدہ ایصالِ ثواب اور دعاؤں کا نذرانہ
والدین کی وفات کے بعد ہر نماز کے بعد ان کی مغفرت کی دعا کریں اور صدقۂ جاریہ کے ذریعے ان کی قبروں کو نور سے آباد رکھیں۔
اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)
- توحید کے بعد شریعت میں سب سے بڑا اور موکد ترین حق والدین کا ہے۔
- بڑھاپے میں والدین کے سامنے 'اُف' تک کہنا بھی سخت گناہ اور بے برکتی کا باعث ہے۔
- ماں کا حق خدمت کے اعتبار سے باپ پر تین درجے بلند تر ہے۔
- والدین کی نافرمانی اکبر الکبائر ہے جس کی سزا دنیا میں بھی جلد بھگتنا پڑتی ہے۔
- والدین کی وفات کے بعد ایصالِ ثواب، ان کی وصیتوں کی تکمیل اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا اولاد پر فرض ہے۔
خلاصۂ کلام
والدین اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی وہ انمول نعمت ہیں جن کا نعم البدل کائنات میں نہیں ہو سکتا۔ ان کی خدمت انسان کے لیے دنیا میں برکت اور کشادہ رزق کا ضامن ہے اور آخرت میں جنت کی کنجی ہے۔
آئیے ہم سب عہد کریں کہ اپنے والدین کے سامنے عاجزی کے بازو بچھائیں گے، ان کی دلجوئی کریں گے، اور کسی بھی معاملے میں ان کے دل کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ جن کے والدین وفات پا چکے ہیں وہ ان کے لیے کثرت سے دعائے مغفرت کریں۔
حوالہ جات و مراجع (Sources & References)
- بِرُّ الوالدین — امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ۔
- تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر) — حافظ عماد الدین ابن کثیر۔
- شُعب الإیمان — امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقی۔
- الأدب المفرد — امام محمد بن اسماعیل البخاری۔
- ریاض الصالحین (باب بر الوالدین وصلة الأرحام) — امام ابو زکریا محیی الدین النووی۔


