تمام مضامین پر واپس جائیں
دینی تعلیم و تربیتشائع شدہ (علمی نظرِ ثانی شدہ)مطالعہ: ۱۴ منٹ

دینی تعلیم کی اہمیت اور عصر حاضر کے تقاضے

مضمون نگار

مصنف: ابوبکر صدیق

آئی ٹی اینڈ سسٹم ایڈمنسٹریٹر، جامعہ شیرِ ربانی

جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
مصنف: ابوبکر صدیق
•
جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
•
شعبہ تصنیف و تحقیق
•
مستند علمی و فکری سلسلہ
دینی تعلیم کی اہمیت اور عصر حاضر کے تقاضے
دینی تعلیم و تربیت • جامعہ شیرِ ربانی
خلاصۂ مضمون و موضوعِ بحث:

ہر مسلمان پر بنیادی دینی احکام سیکھنے کی فرضیت اور دورِ جدید کے فکری چیلنجز کے تناظر میں دینی تعلیم کا ناگزیر کردار۔

تمہید و پس منظر

الحمد للہ الذی علم بالقلم، علم الانسان ما لم یعلم، والصلاة والسلام علی نبینا محمد معلم البریة، وہادی الامة، وعلی آلہ واصحابہ وازواجہ اجمعین، اما بعد!

اللہ رب العزت نے انسانیت پر جو سب سے پہلا احسان فرمایا وہ علم کی دولت کا عطا کیا جانا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ پر غارِ حرا میں نبوت کی پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ نہ نماز تھا، نہ روزہ، نہ جہاد، بلکہ وہ انقلابی لفظ 'اقْرَأْ' (پڑھیے!) تھا۔ اس الہامی فرمان نے اعلان کر دیا کہ اسلام جہالت کے اندھیروں کو مٹانے اور عقل و روح کو علم کے نور سے منور کرنے آیا ہے۔

آج کا دور ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور مادی ترقی کا دور کہلاتا ہے، مگر اس چکا چوند کے پیچھے اخلاقی پستی، الحاد، بے راہ روی اور خاندانی انتشار کا ایسا طوفان برپا ہے جس نے نوجوان نسل کی فکری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس پرفتن دور میں 'دینی تعلیم' محض چند کتابیں پڑھنے کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ اپنے ایمان کی حفاظت، اپنی اسلامی شناخت کے دفاع اور اخلاقی بقا کی واحد اور ناگزیر پناہ گاہ بن چکی ہے۔ اس مقالے میں دینی تعلیم کی شرعی حیثیت، اس کے بنیادی مقاصد، اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عملی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

بنیادی تعارف و مفہوم

اسلام میں علم کا جامع تصور: اسلام نے علم کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے: ایک 'علمِ نافع' اور دوسرا وہ علم جو انسان کو اللہ سے غافل کر دے۔ اسلام دنیاوی علوم (سائنس، طب، ریاضی، انجینئرنگ، کمپیوٹر) کے حصول کو نہ صرف جائز بلکہ فرضِ کفایہ قرار دیتا ہے تاکہ امتِ مسلمہ دنیا کی محتاج نہ رہے۔ لیکن بنیادی 'دینی علم' (عقائد، حلال و حرام کے احکام، طہارت، نماز اور اخلاقیات) کا سیکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر 'فرضِ عین' ہے جس کے بغیر انسان مسلمان کہلانے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔

دینی اور اخلاقی تربیت کا چولی دامن کا ساتھ: مغربی تعلیمی نظام صرف معلومات اور ڈگری فراہم کرتا ہے مگر کردار سازی اور خوفِ خدا سے عاری ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تعلیمی نظام 'تعلیم' کے ساتھ 'تربیت' اور 'تزکیہ' کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔ اگر کسی کے پاس ایٹم بم کا علم ہو مگر خوفِ خدا نہ ہو تو وہ ہیروشیما اور ناگاساکی بنا ڈالتا ہے؛ لیکن جب سائنس اور علم کے ساتھ دینی تعلیم اور اخلاق شامل ہو جائیں تو وہ علم انسانیت کے لیے شفا اور رحمت بن جاتا ہے۔

دینی تعلیم کے بنیادی اہداف:

۱. معرفتِ الٰہی: انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے اور اس کی بندگی کرے۔

۲. احکامِ شرعیہ کی بجا آوری: حلال و حرام کی تمیز حاصل کر کے پاکیزہ زندگی گزارے۔

۳. فکری استحکام: الحاد، دہریت اور باطل نظریات کے حملوں سے اپنے ایمان کا دفاع کر سکے۔

تفصیلی علمی و فکری مباحث

عصرِ حاضر کے فکری و نظریاتی چیلنجز اور دینی تعلیم کی ضرورت

موجودہ دور کا سب سے بڑا بحران فکری بحران ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مغربی میڈیا کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں مذہب کے خلاف زہریلے شکوک و شبہات ڈالے جا رہے ہیں: آزادی کے نام پر بے حیائی، حقوق کے نام پر خاندانی نظام کی تباہی، اور عقل پرستی کے نام پر احکامِ الٰہی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

اگر ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو مستند دینی تعلیم اور عقائد کی ٹھوس بنیادیں میسر نہ ہوں، تو وہ اعلیٰ یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر نکلیں گے مگر ان کا ایمان اور اسلامی تشخص ختم ہو چکا ہوگا۔ اس لیے سکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے بھی بنیادی دینی تعلیم اور عقائد کا فہم فراہم کرنا اب ایک ہنگامی فریضہ بن چکا ہے۔

اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داریاں

والدین کا فرض: والدین اپنے بچوں کے لیے مہنگے سکول، اچھے کپڑے اور دنیوی کیریئر کی فکر تو کرتے ہیں مگر ان کے دین اور آخرت سے غافل رہتے ہیں۔ قرآن حکم دیتا ہے: ﴿قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ (اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ)۔ بچوں کو بچپن سے ہی قرآن، نماز، اور مسنون اخلاق سکھانا والدین پر فرض ہے۔

اساتذہ کا کردار: استاد محض نوکری پیشہ نہ بنے بلکہ اپنے طلبہ کا روحانی باپ بنے۔ اس کا اپنا اخلاق، سچائی اور نماز کی پابندی طلبہ کے لیے عملی نمونہ ہونی چاہیے۔

دینی تعلیم کے فروغ کے لیے عصری عملی تجاویز

۱. قرآن فہمی کے شارٹ کورسز: جامعات اور کالجز کے نوجوانوں کے لیے ہفتہ وار تجوید، ترجمۂ قرآن اور فقہی مسائل کی کلاسز کا انعقاد۔

۲. ڈیجیٹل ذرائع کا مثبت استعمال: سوشل میڈیا پر معیاری، خوبصورت اور مختصر ویڈیوز اور مضامین کے ذریعے اسلام کی حقانیت کو جدید اسلوب میں پیش کرنا۔

۳. مدارس اور سکولوں میں خلیج کا خاتمہ: سکولوں کے بچوں کو دینی اداروں سے متعارف کرایا جائے اور مدارس کے طلبہ کو عصری علوم اور انگلش و کمپیوٹر سے روشناس کرایا جائے۔

قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات

قرآن مجید نے علم کی فضیلت، پہلی وحی کی دعوت اور اہل علم کی برتری کا اعلان فرمایا ہے:

سورة العلق • آیت نمبر: ۱-۵قرآن مجید

﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۝ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۝ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴾

ترجمۂ مبارک:

پڑھیے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا ہی کرم والا ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

فکری و تفسیری نکتہ: اسلام کی ابتدا ہی پڑھنے، قلم، اور علم کے پیغام سے ہوئی، جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ علم کے بغیر اسلامی معاشرے کی تعمیر ناممکن ہے۔
سورة طه • آیت نمبر: ۱۱۴قرآن مجید

﴿ وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴾

ترجمۂ مبارک:

اور آپ دعا فرمائیے: اے میرے رب! میرے علم میں مزید اضافہ فرما۔

فکری و تفسیری نکتہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو دنیا کی کسی چیز میں اضافے کی دعا کا حکم نہیں دیا سوائے 'علم' کے، جس سے علم کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات

رسول اکرم ﷺ نے طلبِ علم کو فرض قرار دیا اور علم کے راستے کو جنت کی راہ بنایا:

سنن ابن ماجہحدیث: 224
حکم: صحیح بمجموع طرقه

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

اردو ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم کی طلب ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔

تشریح و مقصد: یہ فرمانِ عالی شان اسلام کے علم دوست مزاج کا منشور ہے، جس نے ہر انسان کے لیے دین اور اخلاق کا علم حاصل کرنا لازمی قرار دیا۔
صحیح مسلمحدیث: 2699
حکم: صحیح

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «...وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ»

اردو ترجمہ:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ...اور جو شخص کسی ایسے راستے پر چلا جس میں وہ علم حاصل کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔

تشریح و مقصد: طالبِ علم جب نیت خالص رکھ کر دینی علوم کی تحصیل کے لیے قدم اٹھاتا ہے تو ہر قدم پر اس کے گناہ معاف اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ

عصرِ حاضر میں دینی تعلیم کو اپنے گھروں اور بچوں میں رائج کرنے کے عملی اصول:

1

روزانہ گھر میں دینی تعلیم اور درس کا اہتمام

ہر گھر میں روزانہ شام کو صرف پندرہ منٹ قرآن کا ترجمہ، ریاض الصالحین سے حدیث اور بنیادی فقہی مسائل پڑھ کر اہل خانہ کو سنائے جائیں۔

2

بچوں کو ناظرہ اور بنیادی عقائد کی پختہ تعلیم

بچپن ہی میں مستند قاری سے تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآن پڑھوائیں اور انہیں توحید، رسالت، آخرت اور نماز کے بنیادی طریقے سکھائیں۔

3

جدید ملحدانہ فتنوں کے جوابات کا مطالعہ

کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو مستند علمائے کرام کی وہ کتب پڑھوائیں جو جدید الحاد، لادینیت اور شکوک و شبہات کا مدلل اور سائنسی جواب دیتی ہیں۔

4

دینی اداروں اور اساتذہ کا بھرپور تعاون اور توقیر

دینی معلمین اور اساتذہ کا ادب و احترام کریں اور اپنے وسائل سے دینی تعلیمی منصوبوں کو مضبوط بنائیں۔

اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)

  • دینی تعلیم ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے جس کے بغیر صحیح بندگی ممکن نہیں۔
  • پہلی وحی 'اقْرَأْ' نے اسلام کو علم، تحقیق اور فہم کی اساس پر قائم کیا۔
  • علم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور خوفِ خدا کا ہونا ناگزیر ہے ورنہ علم فتنہ بن جاتا ہے۔
  • عصرِ حاضر کے الحاد اور تشکیک کے طوفان کا واحد توڑ مستند دینی تعلیم ہے۔
  • والدین اور اساتذہ کی اولین ذمہ داری بچوں کی ایمانی اور اخلاقی شناخت کا تحفظ ہے۔

خلاصۂ کلام

دینی تعلیم امتِ مسلمہ کی روح اور اس کی حیات کی ضامن ہے۔ اگر دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا نور موجود نہ ہو تو تہذیبیں بربادی اور درندگی کی طرف چلی جاتی ہیں۔

آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں دین کو مرکزیت بخشیں، اپنے بچوں کو قرآن و سنت کا شعور دیں اور علم و عمل کے امتزاج سے ایک باکردار اور باوقار نسل تیار کریں۔

حوالہ جات و مراجع (Sources & References)

  1. تعلیم المتعلم طریق التعلم — امام برہان الاسلام الزرنوجی۔
  2. جامع بیان العلم وفضلہ — امام ابو عمر یوسف بن عبد البر القرطبی۔
  3. أخلاق العلماء — امام ابو بکر محمد بن الحسین الآجری۔
  4. تذکرة السامع والمتکلم فی أدب العالم والمتعلم — امام بدر الدین ابن جماعۃ الکنانی۔
  5. التعلیم والتوجیہ الإسلامی — مفکرِ اسلام شیخ محمد قطب۔
علمی نظرِ ثانی و ادارتی نوٹ: یہ مقالہ جامعہ شیرِ ربانی کے شعبہ تصنیف و تحقیق کی کاوش ہے۔ تعلیمی مباحث اور تمام نصوص مستند اسلامی تعلیمات سے ماخوذ ہیں اور مقالہ جامعہ کی علمی مجلس کے روبرو پیشِ نظر ہے۔
اسی زمرے سے مزید

متعلقہ علمی مضامین

مزید دیکھیں
مدارس دینیہ کا کردار اور معاشرے کی تعمیر
دینی تعلیم و تربیت

مدارس دینیہ کا کردار اور معاشرے کی تعمیر

دینی مدارس کا تعلیمی و تربیتی مشن، اخلاقی انحطاط کے خلاف مضبوط قلعہ اور باکردار قیادت و افراد سازی کی خدمات۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں